الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

میونسپلٹی کی چیز کا استعمال

سوال

کسی شخص کو کوئی شئی جو کہ ملکیت میونسپلٹی کی ہے، استعمال کے لئے ملی ہوئی ہے، وہ کچھ بیکار سمجھ کر دوسرے کو دیدیتا ہے، اور وہ اپنی منشا کے مطابق درستگی کرا کر اپنے استعمال میں لے آتا ہے، اور دینے والا یہ کہتا ہے کہ تم مالک ہو، آیا وہ اس صورت میں اپنے کو مالک سمجھے یا نہیں یا کیا صورت کرے؟

جواب

اگر میونسپلٹی کی طرف سے محض استعمال کے لئے عاریہ ملی اس شخص کو مالک نہیں بنایا گیا، تب تو اس کو حق نہیں کہ کسی کو دے اور کسی کو مالک بنادے، نہ دوسرے کو اس کا لینا درست ہے اگر عاریہ نہیں ملی بلکہ میونسپلٹی نے اس کو مالک بنا دیا ہے، تو اسکو جائز ہے کہ جس کو چاہے دے، اور دوسرے شخص کو اسکالینا اور مالک بننا بھی جائز ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو