الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مشترک ملک میں تعمیر

سوال

زید کے والد کا موروثی مکان جس کو زید نے ۴۰٫۳۵ر ہزار روپئے ذاتی صرف کر کے پختہ بنوایا ہے، اس کی تقسیم شرعی کس طرح ہوگی؟ اور اس مکان میں زید کے بھائیوں کی اولاد کا شرعاً کیا حصہ ہوگا؟ براہ کرم تقسیم شرعی فرما کر فتوی دیں؟

جواب

زید نے اگر دیگر ورثہ سے کوئی معاملہ مکان تعمیر کرنے سے پہلے کر لیا ہے تو اس کو لکھنا چاہئے، کہ معاملہ کیا ہے، اگر کوئی معاملہ نہیں کیا اور ان سے تعمیر مکان کی اجازت بھی نہیں ملی تو اس تعمیر کا زید تنہا مالک ہے، دوسرے ورثہ کا اس تعمیر میں کوئی حصہ نہیں، البتہ زمین میں ان کا حصہ ہے، اب یا تو وہ اپنے حصہ کی زمین لے لیں، اور جس قدر تعمیر اس حصہ میں آئے اس کی قیمت زید کو دیدیں، یا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو