سیل ماء دوسرے کی ملک میں
سوال
زید و عمر دونوں بھائیوں کے مکان قریب قریب ہیں، اور درمیان دونوں مکانوں کے ایک دیوار ہے اور دیوار کے نیچے سے ایک سوراخ ہے، جس سے زید کے گھر کا پانی جو بارش وغیرہ کا ہوتا ہے، عمر کے صحن میں سے ہو کر شارع عام میں چلا جاتا ہے، اور یہ صورت کافی عرصہ سے واقع ہے، اب تنازع ہو گیا، عمر کہتا ہے کہ اپنے گھر کے پانی کا اور بندوبست کرو، میں اپنے صحن سے نہیں نکلنے دونگا حتی کہ جس جگہ پانی نکلتا تھا اس نے مکان بنالیا، اگر زید کوشش کرے تو دوسری جانب سے نکل سکتا ہے، مگر تکلیف سے، زید کہتا ہے کہ چونکہ کافی عرصہ سے یہ صورت چلی آ رہی…
جواب
” وكذا لو كان مسيل ماء سطحه الى داررجل وله فيها ميزاب قديم فليس لصاحب الدار منعه عن مسيل الماء اھ “ فتاویٰ عالمگیری، ج ۵، ص ۳۹۴ / اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اگر پانی کا راستہ قدیم سے ہے تو عمر کو اس کے روکنے کا حق نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔