راکھ کا حکم
سوال
راکھ کھانے کا حکم خواہ اشیاء حلال کی ہو یا حرام کی؟
جواب
راکھ مٹی کے حکم میں ہے اور مٹی کے متعلق فتاوی عالمگیری کتاب الکراہیۃ میں ہے حرام اور نجس شئی جب جل کر خاک بن جائے تو شرعاً وہ راکھ طاہر ہے، اس پر وہی حکم جاری ہوگا جو پاک اشیاء پر جاری ہوتا ہے ” لا یکون نجسا رمادقذر والا لزم نجاسة الخبز في سائر الامصار ولا ملح كان حماراً اوخنزيرا ولاقذر وقع في بئر فصار حماة لانقلاب العين به يفتی در مختار قال الشامي يجوز اكل ذلك الملح والصلواة…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔