عقیقہ کا کھانا چماروں کے ہاتھوں سے کھلوانا
سوال
ایک مسلمان نے عقیقہ میں کھانا پکوایا اور وہ کھانا مسلمانوں کو چماروں کے ہاتھوں سے کھلوایا، اس کا پتہ بعد میں چلا، یعنی یہ بعد میں معلوم ہوا کہ چماروں کے ہاتھوں سے کھانا کھلوایا گیا ہے؟
جواب
ہمارے اطراف میں عام طور پر چمار پاکیزہ خیال نہیں رکھتے، بلکہ ناپاکی میں ملوث رہتے ہیں، ان سے مسلمانوں کو دعوت میں کھانا کھلانے کا کام نہ لیا جانا چاہئے، اس سے طبائع سلیمہ میں کراہت معلوم ہوتی ہے، تاہم اگر ان کے ہاتھ پاک صاف کراکے پوری احتیاط سے یہ کام لیا گیا ہے، تو یہ نہیں کہا جائے گا، کہ وہ کھانا ناپاک ہو گیا ہے، اور کھانے والوں نے ناپاک کھانا کھایا ہے، آئندہ ایسا نہ کیا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔