ایک گمراہ فرقہ کے عقائد
سوال
ایک جماعت قرآن پاک کے متعلق اعتقاد رکھتی ہے کہ قرآن پاک کے چالیس پارے ہیں۔ تیس پاروں کا تو علم سب پر ظاہر ہے اور دس پاروں کا علم صرف ہماری جماعت کو ہے اور کسی کو نہیں۔ کیا اس قسم کا اعتقاد رکھنے والا فرقہ مسلمان ہے؟ ۲۔ یہی فرقہ کہتا ہے کہ ہر رات اللہ تعالیٰ کا دیدار کرتے ہیں، ایسے فرقہ کے متعلق شرع میں کیا حکم ہے؟ ۳۔ یہی فرقہ پانچ وقت کی نمازوں کو فرض اور ضروری نہیں کہتا ہے بلکہ صرف رات میں نماز پڑھنے کو ضروری سمجھتا ہے۔
جواب
۱۔ جو قرآن شریف حضور اکرم ﷺ کے وقت سے امت میں برابر شائع ہے تلاوت کیا جاتا ہے مصاحف میں لکھا ہوا وہ سب متواتر اور قطعی ہے۔ اس کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ اس میں سے دس پارے غائب ہیں ان کا کسی کو علم نہیں وہ صرف نیا ایک فرقہ پیدا ہونے والے کے پاس ہے یہ عقیدہ غلط ہے اس کے مانے والے لوگ تواتر قطعی کے منکر اور اسلام سے خارج ہیں۔ ان سے مناکحت اہل اسلام کیلئے حرام ہے۔ ۲۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔