شوہر کے قادیانی ہونے سے فسخ نکاح
سوال
زید کہتا ہے کہ میری لڑکی کی عمر پانچ سال کی تھی اور جب اس کی شادی کی تو لڑکے کی عمر بھی پانچ سال کی تھی، چونکہ اب دونوں بالغ ہو گئے ہیں جن کی عمر تقریباً اٹھارہ اٹھارہ سال ہے میں نے ہر چند لڑکے والے کو کہا کہ لڑکی بالغ ہے لہذا اپنے گھر لے جاؤ مگر وہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔ چونکہ میں بالغ لڑکی کو گھر رکھنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا ہم نے چند لوگوں میں بھی پنچایت کر کے انکو کہا کہ لڑکی لیجاؤ مگر وہ انکار کر گئے۔ لڑکے والوں کا خاندان مع لڑکے کے مرزائی ہو گئے ہیں۔
جواب
مرزا غلام احمد قادیانی نصوص قطعیہ کے انکار اور خلاف شرع عقائد کی وجہ سے کافر اور مرتد ہے اور جو شخص اسکے عقائد کو اختیار کرے وہ بھی کافر اور مرتد ہے اور شوہر کے مرتد ہونے سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے طلاق کی ضرورت نہیں رہتی ہے اور بغیر خلوت صحیحہ کے جب شوہر کا ارتداد وغیرہ کی وجہ سے نکاح فسخ ہو جائے تو عدت واجب نہیں ہوتی اور صورت مسئولہ میں چونکہ مرتد ہوا ہے، لہذا نصف مہر ہی واجب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔