بیمار قادیانی کی تیمارداری
سوال
مرزائی مفلوج الجسم اور مفلس، تنگ دست رشتہ دار کی خدمت جسمانی یا امداد مالی (مثلاً ماموں ہے) کرنا اور کوئی اس کا رشتہ دار خدمت کرنے والا نہ ہو محض مخلوق خدا کافر اور پلید سمجھ کر جیسے کتے وغیرہ کی خدمت ہے جائز ہے یا نہیں۔
جواب
مرزائی صرف کافر ہی نہیں بلکہ مرتد ہیں۔ جو معاملہ دیگر کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ مرتد کے ساتھ شرعا نہیں کیا جاتا اسلئے مرتد کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں چاہئے البتہ اگر یہ توقع ہو کہ وہ خوش اخلاقی اور تیمار داری سے متاثر ہو کر ارتداد سے تائب ہو جائیگا اور اسلام قبول کرلے گا تو پھر یہ تیمار داری مستقل تبلیغ کا حکم رکھتی ہے۔ بشرطیکہ نیت یہی ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔