الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

انبیاء کی خدمت میں ازواج مطہرات کا پیش کیا جانا

سوال

(الف) بعض لوگ کہتے ہیں کہ انبیاء علیہ السلام کی قبور مطہرہ میں ازواج مطہرات پیش کی جاتی ہیں، وہ ان کے ساتھ شب باشی فرماتے ہیں کیا یہ قول صحیح ہے؟ (ب) نیز کیا مرنے کے بعد سمع بصر وادراک بڑھ جاتا ہے، عام لوگوں کا حتی کہ کفار کے بھی سمع بصر وادراک بڑھ جاتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ (ج) نیز ولایۃ النبی افضل من نبوتہ جو مقولہ ہے اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب

(الف) انبیاء علیہم السلام کی حیات ان کی قبور میں برزخی حیات ہے جو کہ اس عالم کی حیات سے قوی ہے، جیسے کہ چراغ سے اس کی روشنی سارے کمرے میں پھیل رہی ہے، لیکن اس کے اوپر جب طشت ڈھانک دیا جائے، جس سے اس کی روشنی محدود ہو جائے، مگر پہلے سے زیادہ قوی ہو جائے گی، جو چیز احادیث سے ثابت ہو اس کا اعتراف کیا جائے گا، اور جس چیز کی احادیث میں نفی کر دی گئی ہو اس کا انکار کر دیا جائے گا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو