آڑھت دار کی کٹوتی
سوال
مبارک پور کے آڑھت کے یہاں کوئی باہر کے خریدار آتے ہیں، تو ان کی موجودگی میں بنکروں سے ساڑیاں خریدتے ہیں آڑھت داروں اور خریداروں کے درمیان سے ایک مقرر کمیشن طے رہتا ہے، آڑھت دار جب قیمت پر ساڑیاں خریدتا ہے، خریدار اسی حساب سے ساڑھیوں کی قیمت آڑھت داروں کو مع کمیشن کے دیتا ہے، مگر خریداروں سے قیمت پانے کے بعد بنکروں کو جب وہ قیمت دیتا ہے تو پوری قیمت نہیں دیتا ہے، بلکہ دو روپیہ سے لے کر پانچ دس روپئے تک کم کر دیتا ہے جس کو کٹوتی کہتا ہے، بنکروں ساڑیاں بیچنے والوں کا کہنا ہے کہ اس طرح سے جو رقم کاٹی جاتی ہے وہ بالکل…
جواب
بنکر اپنا مال آڑھت دار کے یہاں لاتے ہیں، کہ تم ہمارا مال فروخت کر دو، خریدار آکر آڑھت سے خریدتے ہیں آڑھتی داران سے قیمت لے کر بنکروں کو دیتا ہے، اور کچھ اپنی دلالی لیتا ہے، اس دلال کا معاملہ بنکروں اور آڑھت داروں کی رضا مندی پر موقوف ہے جو مقدار طے کر لیں اس مقدار کا لینا درست ہے، شامی میں اجرت سمسار کو تعامل و تعارف کی بناء پر درست لکھا ہے، بنکر اگر یہ اجرت نہیں دینا چاہتے تو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔