الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شراب کے لئے بوتل فروخت کرنا

سوال

ایک شخص کباڑی کا کام کرتا ہے، جیسے پرانا لوہا اور پلاسٹک اور خالی شدہ بوتلیں خریدنے اور بیچنے کا کام کرتا ہے، اس میں شراب کی بھی خالی شدہ بوتلیں آ جاتی ہیں، وہ بوتلیں شراب بنانے والے کو فروخت کرتا ہے، جس میں شراب ساز دوبارہ شراب بھی فروخت کرتا ہے کیا مذکورہ بالا کام کرنے کیلئے شراب کی بوتلیں بیچنا جائز ہے؟

جواب

اگر یہ بوتلیں صرف شراب ہی کے لئے استعمال ہوتی ہیں اور کسی کام میں استعمال نہیں ہوتیں تو ان کو فروخت کرنا ایک حیثیت سے شراب فروخت کرنے والوں اور خریدنے والوں کی اعانت ہے، اور حدیث پاک میں شراب بیچنے والے پر بھی لعنت آئی ہے، خرید نے والے پر بھی لعنت آئی ہے، اگر چہ وہ اس کو پیتا نہ ہو، اس لئے اس سے پرہیز کیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو