آلات لہو کی بیع
سوال
زید ایک دوکان کھولنا چاہتا ہے جس میں اس قسم کا سامان لگائے گا اور فروخت کرے گا کہ جس سے طبل ومزامیر تیار ہوتے ہیں، مثلاً چادر پیتل کی کہ جس سے باجے بنتے ہیں، اس قسم کا دیگر سامان جس سے باجے تیار ہوتے ہیں، اور ایسے موقع اور مقام پر کھولنا چاہتا ہے کہ جہاں پر باجے بہت بنتے ہیں، اور بازار بھی باجوں کا ہے تو اس قسم کے سامان کی دوکان ایسے موقع پر کھولنا جائز ہے اور مکروہ تو نہیں۔
جواب
”ويكره تحريماً بيع السلاح من اهل الفتنة ان علم لانه اعانة على المعصية وبيع ما يتخذ منه كالحديد ونحوها درمختار قوله لانه اعانة على المعصية لانه يقاتل بعينه بخلاف مالا يقاتل به الابصنعة تحدث فيه كالحديد ونظيره كراهة بيع المعازف لان المعصية تقام بها عينها ولا يكره بيع الخشب المتخذة هی منہ“، اس سے معلوم ہوا کہ ایسی جگہ ایسی تجارت کراہت سے خالی نہیں، اگرچہ اس کو بالکل نا جائز بھی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔