الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ریلوے کی چوری

سوال

ایک شخص ریلوے ویگن توڑ کر چوری کیا اور اس مال کو دوسرے شخص نے اس سے خرید کر اس کو فروخت کرنا شروع کر دیا اسی طرح برابر سلسلہ جاری رہا، کہ ایک شخص ریلوے سے چوری کرتا تھا اور دوسرا اس سے خرید کر فروخت کرتا تھا، جب خریدنے والے کے پاس کچھ پیسے ہو گئے تو اس نے چوری کا مال خریدنا ترک کر دیا اور ایک ٹرک (گاڑی) خرید کر اس کو کرایہ پر لگادیا ہے، اب میری تحریر کا مقصد یہ ہے کہ ریلوے کی چوری جائز ہے؟ یا جس نے خرید کر اپنی تجارت کی وہ جائز ہے؟

جواب

چوری ریلوے کی بھی نا جائز ہے، ایسے مال کو بھی چوری کر کے تجارت کرنا ناجائز ہے، ایسی ناجائز تجارت کر کے مال جمع کرنا اور اس سے ٹرک خریدنا بھی نا جائز ہے، اب یہ صورت ہے کہ جس قدر مال چوری کا خریدا ہے اس کی قیمت مالک کو پہنچائے اگر وہ معلوم نہ ہو تو اتنا مال غریبوں کو بلانیت ثواب صدقہ کر دے ٹرک کی آمدنی جائز ہو جائے گی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو