الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

افیون کی تجارت اور اس کی آمدنی کا حکم

سوال

ہمارے علاقے میں خاص طور سے ہمارے گاؤں میں لوگ افیون کا کاروبار کرتے ہیں، اسی کا روبار سے جو رقم حاصل ہوئی، زمین، کھیت اور باغ خریدے اب ان میں کاشت بھی ہوتی ہے، اور افیون کا کاروبار بھی جاری ہے، کیا ایسے لوگوں کی آمدنی درست ہے، ان کے یہاں کھانا کیسا ہے؟ اگر افیون کی کمائی سے مسجد، سرائے، یا دینی مدارس میں چندہ دیں تو کیسا ہے؟

جواب

افیون کی تجارت مکروہ ہے افیون کی آمدنی سے جو زمین خرید کر اس میں کاشت کرتے ہیں اس کا شت کی آمدنی کو حرام نہیں کہا جائے گا، ایسی آمدنی سے چندہ لینا بھی درست ہے، اور ان کے یہاں کھانا پینا بھی درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو