الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جلد میتہ کی بیع

سوال

میں بھینسوں کا بیو پار کرتا ہوں اور کئی پال بھینس مر بھی جاتی ہیں، تو ان مری ہوئی بھینسوں کے چمڑے کی قیمت لے سکتا ہوں یا نہیں؟ ایک مولوی صاحب نے بتلایا کہ چمڑے کی قیمت نہیں لینی چاہئے، اگر قیمت نہ لوں تو میرا کافی نقصان ہوتا ہے؟

جواب

ان مولوی صاحب نے صحیح کہا ہے کہ مردار چمڑے کی خرید و فروخت جائز نہیں، البتہ اس کو اگر نمک وغیرہ لگا کر دباغت دے لیں تو گلنے سڑنے سے محفوظ ہو جائے، تو پھر اس کو فروخت کرنا قیمت وصول کرنا شرعاً درست ہو جائے گا۔ ہکذافی در المختار

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو