لونڈی کے احکام بیع استیلا دوغیرہ
سوال
استفتاء از منثور احمد اعظمی ہی سی سی،صندوق البريد ۳۴ المطار الظهران سعودی عربیه ۲۳ مارچ ۸۰ھ (۱) اسلام میں لونڈی رکھنے کی اجازت ہے، تو اسکی شرطیں کیا ہیں، یا وقتی اجازت تھی بعد میں منسوخ ہوگئی؟ (۲) کیا خریدی ہوئی لونڈی کے ساتھ مباشرت جائز ہے اگر جائز ہے تو کس صورت میں؟ (۳) کیا بچے پیدا ہونے پر وراثت میں حصہ پائیں گے؟ (۴) اگر منکوحہ بھی ہو تو کیا لونڈی کے ساتھ جماع جائز ہے؟ (۵) اگر کوئی آدمی پچاس ہزار روپے میں لونڈی خریدتا ہے ساری عمر کے لئے، تو ایک طوائف جو پچاس روپیہ یومیہ لیتی ہے کیوں حلال نہیں ہے؟ (۶)
جواب
(۱) شرعی طریقہ پر جہاد کیا جائے، اور اس میں دشمن اسلام گرفتار کر کے قیدی بنائے جائیں، جن کو امیر المومنین غازیوں کے درمیان تقسیم کر دے، ایسے قیدی مرد ہوں تو غلام کہتے ہیں، عورت ہو تو لونڈی کہلاتی ہے یہ حکم منسوخ نہیں وقتی نہیں جب بھی اللہ پاک مسلمانوں کو ایسی شوکت عطا فرمائے کہ امیر المومنین شرعی طریقہ پر جہاد کرے، اور اس میں اعداء اسلام گرفتار ہو کر آئیں وہ غلام لونڈی بن…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔