الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تالاب سے مچھلی پکڑ کر فروخت کرنا

سوال

زید نے ایک تالاب گورنمنٹ سے دس سال کے لئے خریدا اور اس میں سے مچھلی پکڑ کر بازار میں فروخت کرتے ہیں تو کیا یہ شرعاً درست ہے؟ یعنی خاص مچھلی پکڑنے کے لئے تالاب خریدا؟

جواب

جو مچھلی خود پیدا ہو اس کو فروخت کرنا بغیر اس کو پکڑے ہوئے شرعاً درست نہیں، اور اس مقصد کے لئے تالاب کرایہ پر لینا بھی درست نہیں لیکن مچھلی کا بیج اگر ڈال کر پرورش کی جائے تو اس پر پابندی عائد کر دینا کہ کوئی اور شخص نہ پکڑنے پائے درست ہے، اسی طرح اگر تالاب کرایہ پر لیا اور اس میں بیج ڈالا مچھلی کی تربیت اور اس کی پرورش کی پھر پکڑ کر فروخت کیا تو اس کا یہ پکڑنا اور فروخت کرنا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو