الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سلامی ورونمائی

سوال

دولہا کو سلامی اور دولہن کو رونمائی دینا، انوار ساطعه، ص ۲۳۲ / مطبوعه جمال پریس دہلی میں بحوالہ مولانا اسحاق صاحب قدس سرۀ جائز لکھا ہے، اور صاحب براہین قاطعہ نے ”تهادوا تحابوا“ اس روایت کو پیش کر کے اصل موجود ہونے پر تسلیم کر لیا کیا مسئلہ ایسا ہے؟ حالانکہ سلام عبادت ہے اور رونمائی فتح باب فحش کے مرادف ہے؟

جواب

رونمائی کا مقصد اگر یہ ہو کہ نامحرموں کو دلہن اپنا چہرہ دکھائے تو یہ فتح باب فحش کا مرادف ہوگا لیکن اگر دلہن کی ساس وغیرہ اپنی لائی ہوئی دلہن کو خوش ہو کر ہدیہ دیں کہ وہ تازہ تازہ میکہ چھوڑ کر آئی ہے، اس کی دلجوئی ہو جائے تو اس میں کیا مضائقہ ہے، اسی طرح اگر دولہا کو ہدیہ دیں اور اس کا نام سلامی رکھدیں تو کیا حرج ہے، یہ تو صرف ہدیہ دینے کا ایک عنوان ہوا، تاہم اگر اس عنوان میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو