الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قوالی اور خنزیر کھانے کی حرمت میں فرق

سوال

ایک فتویٰ موصول ہوا، اس میں تحریر ہے کہ جس چیز کو قرآن کریم میں حرام قرار دیا گیا اس کی حرمت لعینہ ہے، اور شدید ہے، بعض مرتبہ ایک حرام کا ارتکاب متعدی ہوتا ہے، اس کے بعد تحریر ہے کہ جس جگہ جس قسم کی حرمت ہو گی اس پر اسی حیثیت سے نکیر کی جائے گی، لہذا قوالی مع معازف مزامیر اور گانے کی حرمت قرآن کریم میں” ومن الناس من يشترى لهو الحديث الخ واستفزز من استطعت منهم بصوتك الخ “سے لعینہ ثابت ہوئی، لہذا یہ حرمت شدید ہوئی، اور اس حرام کا ارتکاب متعدی بھی ہے، اس لئے باعث اشتداد ہوا، چونکہ حرمت اس کی بھی قرآن کریم سے ثابت ہے…

جواب

قوالی کی مضرتیں تو آپ نے تحریر فرمادی ہیں، مگر ان کے مقابلہ میں خنزیر، شراب وزنا کی خرابی کو غیر متعدی قرار دے کر بہت ہلکا کر دیا، حالانکہ حرام غذا سے جو خون پیدا ہو کر دل و دماغ اور جوارح میں پہنچتا ہے، پھر اس سے جیسے نظریات اور اعمال ظہور پذیر ہوتے ہیں، ان کی طرف نظر نہیں گئی، نیز شراب پی کر عقل کھو کر جو خرابیاں رونما ہوتی ہیں، ان کی جانب دھیان نہیں گیا ہے اور زنا کی حالت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو