غنا پر استدلال اور اس کا جواب
سوال
جب حضور ﷺ نے سماع سنا ہے اور انصار کی لڑکیوں کو اجازت دی اور حبشی کا کھیل مسجد میں دیکھا ہے وہ گانا تھا، تو یہ فعل لہو نہ ہونا چاہئے، حضرت کی شان سے بعید ہے، کیا اس کو مستحب کہیں گے، یا مباح یا منع کی حدیثیں بعد کی ہیں، جس سے جواز منسوخ سمجھا جائے طبل جنگ اور رمضان شریف میں سحری کے لئے نقارہ بجانا جائز ہے تو کیوں؟
جواب
انصار کی چھوٹی بچیاں کچھ گا رہی تھیں، آپ ﷺ نے ان کو منع نہیں فرمایا، اس سے بالغین کے گانے پر استدلال بعید ہے کیونکہ وہ بچیاں غیر مکلف تھیں، حبشی کا کھیل مسجد میں کیا تھا، وہ لڑائی کے ہاتھ دکھانا تھا، آج بھی اگر کوئی لڑائی کے ہاتھ دکھائے، نیزہ تلوار وغیرہ چلائے، یا بندوق کا نشانہ لگائے، یا تیراندازی کرے تو نہ اس فعل کی ممانعت ہے، نہ اس کے دیکھنے کی، بلکہ احادیث میں تیر اندازی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔