مجلس میلاد کے منکرات تفصیلاً اور وعظ پر اجرت
سوال
میلاد النبی جو کہ شرعی حیثیت سے جائز ہے، اور وعظ ونصیحت کر کے پہلے سے بغیر مقرر کئے ہوئے روپیہ پیسے لینا یعنی اس کا اجرت نام رکھدیا جائے کہ ہم تمہارے وہاں اتنے بجے سے لے کر اتنے بجے تک وعظ ونصیحت یا میلاد النبی پڑھیں گے، ایسے کام کی اجرت تم سے لیں گے، یہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو جواب مدلل مع ادلہ اربعہ یا صرف قرآن وحدیث سے ثابت کریں، اور اگر جائز نہیں تو ادلہ اربعہ سے اس کی نفی کریں؟
جواب
حضور ﷺ کا ذکر مبارک خواہ ذکر ولادت ہو خواہ جہاد، صلوۃ، صوم، حج، نکاح، معاملات و غیره یقیناً باعث برکت و موجب ثواب ہے لیکن اس زمانہ میں مجالس میلاد بہت سے منکرات و ممنوعات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ممنوع ہیں، کتاب المدخل، ج ۲ میں ۳۴ صفحات میں ان مجالس کے منکرات کو تحریر کیا ہے، عربی، فارسی، اردو میں مستقل رسائل اس کی تردید میں موجود ہیں، چند خرابیاں یہ ہیں: (۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔