الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مجلس میلاد مروجہ

سوال

بعض جگہ میلاد شریف کا طریقہ اس طرح مروج ہے کہ باسم میلاد شریف بغرض سماع عام لوگوں کو بلایا جاتا ہے، کھانے پینے کا اہتمام بعض تعلق دارلوگوں کے یہاں علماء کرام و طلبہ کا ہوتا ہے، ورنہ تو اپنے محلہ والوں کے نزدیک عیب شمار کیا جاتا ہے، مجلس ہذا میں شمع مع دیگر خوشبو وغیرہ کا بھی کچھ انتظام کیا جاتا ہے لیکن کہیں حضور ﷺ کی ولادت شریفہ و معجزات مع فضائل ووعظ نصیحت بیان کی جاتی ہیں، اور کہیں محض وعظ و نصائح قرآن کریم واحادیث نبویہ بیان ہوتے ہیں، بہر حال کوئی خاص مضمون نہیں مگر اخیر میں جلسہ کے اختتام پر ضرور بالضرور عام…

جواب

نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر مبارک مطلقاً خواہ وہ ذکر ولادت ہو یا ذکر عبادات و معاملات وغیرہ بلاشبہ مستحسن اور باعث برکت و موجب ثواب ہے، لیکن میلاد مروج ہیئت مخصوصہ کے ساتھ قرون مشہود لہا بالخیر میں کہیں موجود نہ تھا صحابہ تابعین ائمہ مجتہدین اور علماء حقہ نے کبھی نہیں کیا اور کسی دلیل شرعی سے ثابت نہیں لہذا بے اصل بدعت اور نا جائز ہے اس کا ترک واجب ہے یہ مجلس مفاسد کثیرہ پر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو