گیارہویں اور میلاد کی ابتداء
سوال
آج کل مسلمانوں میں ایک طبقہ ربیع الاول کی مخصوص تاریخوں میں میلاد النبی، گیارہویں شریف کی محفلیں بڑی دھوم دھام سے کرتا ہے،کھانا کھلانا، قصائد خوانی مٹھائی تقسیم کرنا، اور بلند آواز سے سورۂ فاتحہ پڑھنا وغیرہ کرنا کیسا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے، اس کا کرنا اجر وثواب اور باعث برکت ہے۔ (۱) کیا اس کا حکم بھی اللہ کے رسول ﷺ نے دیا ہے؟ (۲) کیا خلفاء راشدین رحمہم اللہ نے کیا ہے؟ (۳) کیا صحابہ کرام نے کیا ہے؟ (۴) کیا تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ نے کیا ہے؟ (۵) کیا تبع تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ نے کیا ہے؟ (۶)
جواب
حضور اقدس رسول اکرم ﷺ (فداہ ابی و امی) کا ذکر مبارک خواہ ولادت شریفہ کا ذکر ہو یا عبادات، معاملات، معاشرات، وغیرہ کا ذکر ہو بلاشبہ موجب قرب اور ذریعۂ سعادت ہے، نیز بزرگانِ دین کا ذکر بھی موجب نزول رحمت ہے لیکن جو صورت سوال میں درج ہے اور جو کچھ اس کو مقام دیا گیا ہے، وہ ثابت نہیں، اور بہت سے شرعی مفاسد وقبائح پر مشتمل ہے، بعض مفاسد اعتقادی ہیں، بعض عملی ہیں، بعض اخلاقی ہیں،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔