الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سماع موتی سے متعلق دس سوال

سوال

(۱) آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے عدم سماع اموات ثابت ہے یا نہیں؟ (۲) صحابہ کرام کا مسلک درباره سماع اموات کیا تھا؟ (۳) امام اعظم امام ابو یوسف امام محمد کے ارشادات عالیہ دربارۀ سماع اموات کیا ہیں؟ (۴) اگر حنفیہ کا مسلک عدم سماع اموات ہے تو احادیث صحیحہ کے موافق ہے یا مخالف؟ (۵) مسئلہ سماع اموات میں روایات کتب فقہ متعارض کیوں ہیں مثلاً باب الیمین فی الضرب سے عدم اور کتاب الجنائز سے ثبوت مستفاد ہوتا ہے یہ کیوں دیکھئے فتح القدیر وغیرہ۔ (۶) قائلین عدم سماع اموات حنفی ہین کہ شافعی یا معتزلی؟ (۷)

جواب

(۱) ہر دو قسم کی دلیلیں موجود ہیں۔ (۲) کوئی اجماعی چیز نہیں بلکہ اختلافی ہے صحابہ کے دونوں قول ہیں۔ (۳) اگر ان حضرات سے کوئی واضح اور قطعی نص منقول ہوتی تو آپکو اختلاف کی شکایت نہ ہوتی۔ (۴) اس کا جواب اوپر کے جوابات سے ظاہر ہے۔ (۵) فتح القدیر وغیرہ میں اس کی وجہ بھی موجود ہے۔ (جو کہ جواب (۱) میں تحریر ہے) (۶) یہ بھی فتح القدیر وغیرہ میں لکھا ہے۔ (۷)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو