الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سماع موتی کی تفصیل

سوال

سماع موتی صحیح ہے یا نہیں۔ مردے زندوں کی پکار سنتے ہیں یا نہیں، اور اگر سنتے ہیں تو جواب دے سکتے ہیں یا نہیں۔ مسئلہ کی پوری توضیح فرمائیں، اور اسکے متعلق قرآنی آیات بھی سامنے رکھیں۔ انک لا تسمع الموتى ولا تسمع الصم الدعاء وسری جگہ فرمایا گیا ہے۔ ان الله يسمع من يشاء وما انت بمسمع من في القبور ان انت الا نذیر، سماع موتی کے متعلق ایک روایت حضرت عمرؓ کے متعلق بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر کے دریافت کرنے پر یہ فرمایا! ما انتم باسمع منهم ولكن لا یجیبون۔

جواب

یہاں تین چیزیں غور طلب ہیں۔ ایک اسماع، دوم استماع، سوم سماع، اسماع کی نفی صراحۃً کلام اللہ شریف میں مذکور ہے۔ انک لا تسمع الموتى وما انت بمسمع من في القبور. یعنی حضرت نبی اکرم بذات خود مردوں کو نہیں سنا سکتے تا بدیگراں چہ رسد۔ استماع کا حاصل یہ ہے کہ مردے کان لگا کر خود کسی کی بات سنیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو