سماع موتی کی تفصیل قرآن وحدیث کی روشنی میں
سوال
الف (۱) نصوص کتاب الله واحادیث صحیحہ کے مطابق سماع موتی ہر دو عقیدوں میں سے کون سا عقیدہ صحیح ہے؟ اور مفتی بہ اور راجح ہے، اور کون عقیدہ غیر صحیح وغیر مفتی بہ ومرجوح ہے؟ (۲) اور سماع موتی اور عدم سماع موتی کے بارے میں از روئے ادلہ صحیحہ یعنی آیات قرآنیه واحادیث نبوی ﷺ حضرات ائمہ فقہاء واحناف اور مفتیان دیوبند کے نزدیک کونسا عقیدہ صحیح اور مفتی بہ وراجح ہے، اور کونسا غیر مفتی بہ ومرجوح ہے؟ (۳) اور آیت کریمہ لا تسمع الموتى ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولو مدبرين الخ کا صحیح مطلب اور مراد کیا ہے؟ یہاں تشبیہ ہے یا نہیں؟
جواب
(الف) یہاں تین چیزیں غور طلب ہیں، اول اسماع دوم استماع سوم سماع، اسماع کی نفی صراحۃً کلام اللہ شریف میں مذکور ہے، انک لا تسمع الموتى وما انت بمسمع من في القبور یعنی حضور اکرم اہل قبور کو بذات خود نہیں سنا پاتے، تا بدیگراں چہ رسد، استماع کا حاصل یہ ہیکہ مردے کان لگا کر خود کسی کی بات سنیں، جب روح جسم سے جدا ہو جائے تو جسم کا یہ کان نہیں سن سکتا، اسلئے کہ ادراک کرنیوالی اصل روح…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔