سفر برائے زیارت قبور
سوال
کیا سوائے مسجد اقصیٰ، مسجد حرام، مسجد نبوی ﷺ کے ثواب کی نیت سے کسی بزرگ کے مزار کی طرف سفر کرنا مسنون یا جائز ہے، کیا حضور ﷺ کے روضہ اطہر پر خلفائے راشدین نے یا کسی بھی صحابی یا تابعی، یا تبع تابعی نے پھولوں کی چادر چڑھائی ہے، یا عطر وغیرہ کی شیشیاں چڑھائی ہیں، جیسا کہ آجکل اجمیر وکلیر ودہلی کے اکثر مزارات پر لوگ چڑھاتے ہیں، کیا حضور ﷺ کے نام سے تینوں زمانوں میں کسی بھی صحابی یا تابعی یا تبع تابعی نے نذر، نیاز، منت مانی ہے؟
جواب
قبور کی زیارت کرنے کیلئے سفر کرنے میں اختلاف ہے امام غزالی کے کلام سے جواز کو ترجیح معلوم ہوتی ہے،” وهكذا يفهم من عبارة الشامي، في رد المحتار“ روضہ اطہر پر صحابہ تابعین، تبع تابعین سے پھول وغیرہ چڑھانا جیسا کہ کلیر، اجمیر وغیرہ میں رواج ہے ہر گز ثابت نہیں ہے حضور ﷺ کیلئے نذر ماننا ثابت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔