کامیابی کیلئے ایک درخت کے نیچے خاص ہیئت اختیار کرنا
سوال
ایک درخت ہے اس کے نیچے جا کر بہت سے آدمی اوکڑو بیٹھ جاتے ہیں اور ہاتھ زمین پر ٹیک لیتے ہیں، اور نظر پیر پر رکھتے ہیں، کہنے والا یہ کہتا ہے کہ اگر مقصد میں کامیابی ہے تو ہاتھ آگے کو سرک جاتے ہیں، اور پھر اوندھا زمین پر گر جاتا ہے، اگر مقصد میں کامیابی نہیں ہوتی تو ویسے ہی بیٹھا رہتا ہے کچھ نہیں ہوتا، اس طرح کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے یا نا جائز؟ اور یہ سجدے میں شمار ہوتا ہے یا نہیں؟ اور جو شخص اس درخت کے نیچے جا کر ایسا کرے اس پر شرک لازم آئے گا یا نہیں؟
جواب
ماں کے پیٹ میں جب بچہ میں روح ڈالی جاتی ہے، اسی وقت اس کی ساری زندگی کا رزق اور عمل وہیں لکھ دیا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل کا علم اللہ کو ہے اور کسی کو نہیں کہ کیا کیا لکھا ہے، کسی درخت کے نیچے جا کر اوکڑو بیٹھ کر زمین پر ہاتھ ٹیکنا اور یہ سمجھنا کہ اگر مقصود میں کامیابی ہوگی تو ہاتھ آگے کو سرک کر زمین پر گر جائے گا، ورنہ اسی طرح بیٹھا رہے گا، یہ کوئی ٹوٹکا اور شگون ہے، شرعی چیز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔