قبر کی مٹی سے شفاء
سوال
ایک مرتبہ ایک گاؤں میں جاڑے بخار کی بہت کثرت ہوئی، تو جو شخص قبر سے مٹی لیجا کر باندھ لیتا ہے اسے آرام ہو جاتا ہے، بس لوگ اس کثرت سے مٹی لے گئے کہ جب بھی قبر میں مٹی ڈالو تو ہی ختم کئی مرتبہ مٹی ڈال چکا، پریشان ہو کر ایک مرتبہ میں نے مولانا کی قبر پر جا کر کہا کہ آپ کی تو کرامت ہوئی اور ہماری مصیبت، یاد رکھو اگر اب کوئی اچھا ہوا تو ہم مٹی نہ ڈالینگے، لوگ جوتے پہن کر تمہارے اوپر چلیں گے، بس اسی دن سے آرام نہ ہوا، پھر لوگوں نے مٹی لے جانا بند کر دیا، کیا ایسا عقیدہ رکھنا درست ہے اور شریعت کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
اصل شفا دینے والے اللہ تعالیٰ ہیں خواہ کسی حکیم، ڈاکٹر کی دوا کے ذریعہ سے ہو یا کسی عامل کے تعویذ اور پھونک سے دیں، خواہ کسی بزرگ کی کرامت (خاک قبر وغیرہ) سے دیں خواہ بغیر کسی ظاہری سبب کے دیں، ایک ہی چیز سے جب وہ چاہیں شفا دیدیں، جب چاہیں نہ دیں، یہ عقیدہ صحیح اور درست ہے، شفا کو کسی غیر کے قبضہ قدرت میں تجویز کرنا درست نہیں، خواہ وہ غیر کوئی زندہ ولی وغیرہ ہو یا مردہ۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔