ہندوستانی زمینوں میں عشر
سوال
ہندوستان کی وہ زمینیں جو حکومت اسلامیہ کے زمانہ سے مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں اور ان کی کاشت میں ہیں، تو کیا ان پر عشر واجب ہوگا، مشہور یہ ہے کہ جو مال گذاری حکومت کو دی جاتی ہے یہ قائم مقام عشر کے ہے کیا یہ صحیح ہے؟ اگر زمین دوسرے کو کاشت کے لئے دیدی جائے تو عشر کس پر واجب ہوگا؟
جواب
ایسی زمینوں پر عشر واجب ہے، حکومت کی مال گذاری عشر کے قائم مقام نہیں ہوتی، جیسا کہ فتاوی رشیدیہ میں ہے عشری زمین اگر کاشت پر دی جائے تو مالک اور مزارع پر حصہ وار عشر واجب ہوگا، جو زمین نقد کرایہ پر دی جائے اس میں اختلاف ہے، امام صاحب کے نزدیک مالک پر عشر ہو گا صاحبین کے نزدیک مستاجر پر ہوگا: والعشر على المؤجر كخراج مؤظف وقالا على المستاجر كمستعير مسلم وفي الحاوى وبقولهما نأخذ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔