مال تجارت میں زکوۃ
سوال
بکر نے کپڑے کی دوکان کی ہے اور مال قرض مہاجن کے یہاں سے لاتا ہے، اور مال بیچ کر تھوڑا تھوڑا روپیہ مہا جن کو دیتا ہے تو ایسے مالِ تجارت میں زکوۃ ہے یا نہیں اگر ہے تو اس کی زکوۃ کیسے ادا کی جائے گی۔
جواب
اگر اس کے پاس کپڑا یا روپیہ بقدر نصاب زکوٰۃ (ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت) قرض سے زائد ہو اور اس پر سال بھر گذر جائے تو اس کی زکوۃ (چالیسواں حصہ) واجب ہے، ورنہ واجب نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔