الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بہت قدیم قبرستان کی جگہ مدرسہ اور اس کے نباہ کے لئے دکانیں بنانا

سوال

- بیچ گاؤں میں ایک قبرستان ہے، اس کا استعمال ڈیڑھ سو سال پہلے ہوتا تھا ڈیڑھ سوسال کے بعد سے اب تک اس میں مردوں کو دفنانا چھوڑ دیا۔ اب اس جگہ میں سور اور مرے ہوئے جانور اور زنا کاری اور لوگوں کا بیت الخلاء جانا یہ تمام افعال بد ہو رہے ہیں اسلئے وقف بورڈ ضلع کمیٹی مذکورہ قبرستان کی جگہ میں دینی مدرسہ بنانا چاہتی ہے اور اس مدرسہ کے بعد جو جگہ رہیگی اس میں دکانیں بنا کر کرائے پر دینا چاہتی ہے، تا کہ مدرسہ کے مدرسین کو اس کرائے سے تنخواہ وغیرہ دے سکیں، اس مذکورہ قبرستان کی غیر آباد ہونے کی وجہ سے مدرسہ و دکانوں کا…

جواب

جب کہ وہ قبرستان ڈیڑھ سو سال سے غیر آباد ہے، وہاں مردے دفن نہیں ہوتے اور اس کا استعمال غلط ہو رہا ہے، تو باہمی مشورہ سے وہاں دینی مدرسہ بنالینا شرعاً درست ہے جو جگہ زائد بچ جائے وہاں دکانیں بنا کر ان کو مدرسہ کے لئے وقف کر دیا جائے تا کہ مدرسہ کے اخراجات سہولت سے پورے ہو سکیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو