قبرستان میں خانقاہ
سوال
- قصبہ شوروم ضلع مظفر نگر میں ایک تکیہ ہے، اس تکیہ میں ایک مزار ہے اور مزار کے چاروں طرف قبرستان ہے، اس قبرستان کے چاروں طرف کوٹ گھرا ہوا ہے، اور اس کے اندر چار دروازے تھے اور کوٹ کی چہار دیواری ٹوٹ گئی ہے، اس وجہ سے بجائے چار دروازے کے اس وقت بہت راستے بن گئے ہیں، ایک فقیر نے اس میں ایک مقبرہ بنالیا تھا اور اس مقبرہ میں بیٹھ کر لوگوں کو سٹہ بتانے لگا اور مقبرے میں سٹہ کے پیسے کو لگانے لگا، وہ فقیر انتقال کر گیا ہے، اب اس مقبرے میں گاؤں کے بچے تعلیم پارہے ہیں، کچھ لوگوں نے زبر دستی اس کا تالا توڑ کر اندرونِ مقبرہ…
جواب
اگر وہ تکیه قبرستان کے لئے وقف ہے اور وہ خانقاہ بھی اس سے متعلق ہے تو درختوں کو کاٹ کر قیمت کا روپیہ اس عمارت کی مرمت میں صرف کرنا درست ہے، وہاں کسی فقیر کا سٹہ کی خبر بتانا یا کسی اور غلط کام میں اس جگہ کا استعمال کرنا درست نہیں ہے اگر اس کے ویران ہونے یا تالاب میں چلے جانے کا اندیشہ ہے اور بچوں کی تعلیم کے ذریعہ تحفظ ہو سکتا ہے، تو بہتر ہے، کہ وہاں بچوں کی تعلیم دی جائے مگر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔