عیدگاہ کو قبرستان بنانا
سوال
میری بستی میں ایک عید گاہ قبرستان کے درمیان بنی ہوئی ہے، پہلے آبادی کم تھی اس لئے تمام لوگ اس میں آ جاتے تھے لیکن اب اس میں گنجائش بالکل نہیں ضرورت ہے کہ عید گاہ کو وسیع کیا جائے لیکن مشکل یہ ہے کہ عید گاہ کے چاروں طرف قبریں ہیں، اس لئے اہل بستی چاہتے ہیں کہ اس عید گاہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ عید گاہ بنالی جائے، سوال یہ ہے کہ اس عید گاہ کا ملبہ دوسری عید گاہ میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ اب اس عیدگاہ کا موجودہ مصرف کیا ہوگا؟ کیا اس عید گاہ کو بھی قبرستان ہی بنالیا جائے، اس میں میت کو دفن کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر وہ جگہ وقف ہے، اور نماز عید کے لئے وقف ہے، تو اس کو توڑ کر وہاں میت دفن کرنا درست نہیں بلکہ اس کو عید گاہ ہی رکھا جائے اس کے پاس جو قبرستان ہے، وہ اگر پرانا ہو گیا اور اب وہاں میت دفن نہیں کی جاتی، بلکہ دوسری جگہ دفن کی جاتی ہے، تو عیدگاہ کی توسیع کے لئے اس قبرستان سے جگہ لی جاسکتی ہے، جب کہ قبروں میں میت مٹی بن چکی ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔