مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اذان کے علاوہ حمد ونعت بھی پڑھنا
سوال
محلہ حسنو کٹرہ فیض آباد میں ایک مسجد ہے جس میں محلہ کے تمام لوگ با جماعت نماز ادا کرتے ہیں، مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اذان ہوتی ہے، بعد نماز اکثر لوگ حمدیہ اور نعتیہ کلام بھی پڑھ لیا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے مسجد کے پڑوس میں بسے ہوئے ایک مسلمان کو بظاہر لاؤڈ اسپیکر کی آواز سے بڑی تکلیف ہوتی ہے، جس کے خلاف وہ برابر زبانی تحریری شکایتوں کو حاکموں تک پہنچایا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اہل محلہ کو پولیس نے مارا بھی ہے، اس واقعہ کے بعد اہل محلہ کو اندازہ ہوا کہ شاید یہ بات بڑھ جائے، اسلئے خاموش ہو گئے، خازن مسجد نے ان کے…
جواب
ان پڑوسی سے کہا جائے کہ ہم کو ایسی ہی خبر ملی تھی، اگر یہ خبر غلط ہے، نہ آپ نے شکایت کی اور نہ کسی سے شکایت کرائی تو اس بات میں ہمارا دل آپ کی طرف سے صاف ہے، اب یہ معاملہ ختم کر دیا جائے، نہ ان سے قسم لیں، نہ سلام و کلام ترک کریں، بلکہ اخلاق و محبت سے پیش آئیں، لاؤڈ اسپیکر پر صرف پانچ وقت کی اذان کہیں جس سے مقصودلوگوں کو نماز کیلئے بلانا ہو بقیہ دوسری چیزوں کیلئے لاؤڈاسپیکر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔