مسجد میں ٹیپ ریکارڈ سے قرآن سننا
سوال
ہمارے یہاں جامع مسجد کے امام صاحب یہ فرماتے ہیں کہ آجکل باہر سے جو ٹیپ ریکارڈ آ رہے ہیں، اس میں دینی تقاریر کے علاوہ نماز اور اذان وغیرہ بھی بھرے ہوئے ہوتے ہیں، تو امام صاحب نے رمضان شریف میں آخیر عشرہ کی طاق راتوں میں مسجد میں رکھ کر عوام کو سنایا بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ مسجد کے باہر رکھ کر سنائیے، امام صاحب نے کہا کہ مسجد میں رکھ کر سنا سکتے ہیں، ان کا یہ عمل درست ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں؟
جواب
اس میں ایک قوی اندیشہ تو یہ ہے کہ لوگ صرف ٹیپ ریکارڈ کو سننے پر کفایت کریں گے، اور اسی سے شوق پورا کر لیا کریں گے، خود تلاوت کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے، اور پھر یہ بھی احتمال ہے کہ دوسرے لوگ غلط قسم کی چیزیں سنانے لگیں اور اس سے استدلال کرینگے،لہذا اس طریقہ کو بند کر دیا جائے، کیونکہ یہ چیزیں بڑھتے بڑھتے دور تک پہنچ جاتی ہیں، بعض جگہ یہ بھی ہے کہ نماز کا وقت آیا اور اذان کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔