الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد میں ٹیپ ریکارڈ سے وعظ سننا

سوال

(۱) ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈ مسجد میں رکھ کر تلاوت قرآن یا کسی مقرر کی تقریر سنی جاسکتی ہے یا نہیں؟ (۲) زید جامع مسجد میں اعلان کرتا ہے کہ آج بعد نماز عشاء اس مسجد میں فلاں شخص کی تقریر ہوگی، آپ حضرات تشریف لائیں بچوں کو بھی لاویں، عورتوں کے بیٹھنے کا معقول انتظام ہے، لیکن بعد نماز عشاء بذریعہ ٹیپ ریکارڈ تقریر سنوائی جاتی ہے، تو زید کے اس بیان یا اعلان پر کیا حکم ہے؟ (۳) یہ کہ جملہ مسلمان اس جلسے میں شریک ہو کر بذریعہ ٹیپ ریکارڈ مسجد میں تقریر سنیں، ان کے لئے کیا حکم ہے؟ از روئے شرع جواب مرحمت فرمائیں؟

جواب

(۳/۱) فی نفسہ ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈ سے اگر تلاوت کلام پاک یا وعظ کی آواز آئے تو اسکا سننا مسجد اور غیر مسجد سب جگہ درست ہے، لیکن اگر مسجد میں یہ طریقہ شروع کر دیا جائے تو اندیشہ ہے کہ ہر ہر قسم کی چیزوں کیلئے مکانات کی طرح مسجد میں بھی ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈ کا استعمال ہونے لگے گا، اور جائز اور ناجائز کی کوئی تمیز باقی نہ رہیگی، اسلئے مسجد میں ایسی چیزوں سے احتراز کیا جائے، تقریر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو