مسجد میں مسجد کے لئے چندہ
سوال
مسجد کے اندر دنیا کی باتیں کرنا منع ہے دنیاوی باتوں کی وضاحت کیلئے مسجد کے اندرختم شریف کے سلسلہ میں جو چندہ ہوتا ہے وہ چندہ نام بنام لکھا جاتا تھا، تو ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ دنیا کی خرافات نہ ہونی چاہئے دوسرے شخص نے کہا کہ تمام مسجدوں میں امام صاحب کیلئے چندہ ہوتا ہے، اور دیا جاتا ہے، تو مذکورہ بالا حضرت بولے کہ مسجد کے اندر لینا دینا دونوں حرام ہیں، حرام کی وضاحت نہیں کی، تو آیا یہ سچ ہے کہ لینا دینا دونوں حرام ہیں، اور باتیں کسی قسم کی ہونا چاہئے مسجد میں تعمیری و انتظامی کام سب ہی ہوتے ہیں؟
جواب
دنیا کی باتیں جیسے خرید و فروخت کی باتیں مقدمات کی باتیں کھیت اور باغ کی باتیں، یہ سب دنیاوی باتیں ہیں، مسجد کی تعمیر یا امام کی تنخواہ کیلئے چندہ مسجد میں کرنا منع نہیں ہے بشرطیکہ شور وشغب نہ ہو جیسا کہ عامہ آج کل ہوتا ہے، کہ ایک دوسرے پر طعن کرتے ہیں، غیرت دلاتے ہیں کہ کم چندہ دینے پر جھگڑتے ہیں، غرض کہ احترام ملحوظ نہیں رکھتے، یہ طریقہ منع ہے، ختم شریف کیلئے جو چندہ کیا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔