مزارات کے نام وقف شدہ آمدنی اور اس پر چڑھاوے کا مصرف
سوال
جو ملکات باشاہوں نے پیروں کینام وقف کر دی تھیں تو انکی آمدنی سے اگر لنگر خانہ جاری کیا جاوے تو وہ کھانا کیسا ہے، اور جو پیروں پر چڑھایا جاوے اسکا کھانا کیسا ہے، اور جو با شرع اس چڑھاوے میں سے لڑ جھگڑ کر مثل ترکہ جدی سمجھ کر حصہ لیتا رہے تو وہ شخص کیسا ہے۔
جواب
اگر واقف نے وقف کی آمدنی سے لنگر خانہ جاری کرنے کی اجازت دیدی تھی تو مستحق کو اس کا کھانا جائز ہے، اگر وہ چڑھاوا پیروں اور مزاروں کے نام کا ہے تو اس کا چڑھانا اور کھانا نا جائز ہے اور اگر وہاں کے فقراء کیلئے ہے تو فقراء کو کھانا درست ہے، اگر وہ با قاعدہ شرعی طور پر وقف ہے تو اس میں میراث جاری نہ ہوگی بلکہ واقف نے جو حصہ جس طرح متعین کر دیا ہے، اسکے موافق مستحقین میں تقسیم کیا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔