الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مزار کی حفاظت کا طریقہ اور اس کے محافظ کا وظیفہ

سوال

یہاں گاؤں میں ایک درگاہ شریف ہے، اس کی مجاوری کے لئے مہا راجہ گائیکواد نے کچھ زمین دی ہے کہ جو مجاوری کرے وہ اس زمین کو کاشت کر کے اس کی پیداوار کھائے، اور مجاوری کا کام ایک مؤذن کرتا ہے اور گاؤں کے لوگ سب درگاہ پر پھول چڑھاتے ہیں اور دیا بھی جلاتے ہیں مؤذن کا کہنا ہے کہ میں اس قبر پرستی کو برا سمجھتا ہوں، اگر میں یہ کام نہ کروں تو اس زمین کی پیداوار کھا سکتا ہوں کہ نہیں؟ چونکہ اس کی تنخواہ بہت کم ہے اس لئے اس نے ایسا کام اختیار کیا ہے۔

جواب

درگاہ کی حفاظت کرے اور پھول چڑھانے والوں کو نرمی وشفقت سے سمجھا دیا کرے کہ اس چڑھاوے سے نہ تم کو فائدہ ہے، نہ صاحب مزار کو فائدہ ہے، اگر دورکعت نفل پڑھ کر ان کو ثواب پہنچا دو تو تم کو بھی نفع ہے، اور ان کو بھی نفع ہے، اور اس طریقہ پر ثواب پہنچانا حدیث شریف سے ثابت بھی ہے، درگاہ سے متعلق جو زمین ہے اس کی پیداوار کھانا اس کے لئے جائز ہوگا،مگر جو چیز مزار پر چڑھائی جائے اس کا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو