الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف مسجد کی زائد آمدنی واقف کی اولاد پر

سوال

مسمی مواجالو عسیلی مرحوم مسلک شافعیہ کا پابند، مشیر ممباسہ،ممباسہ مملکت کینیا افریقہ کا باشندہ ذی حیثیت اور صاحب جائیداد دیندار مسلمان تھا، اس کی جائیداد شہر وبیرون شہرتھی۔ ۱۹ ویں صدی عیسوی میں اس نے شہر ممباسا میں ایک مسجد تعمیر کی جو کو بیجالو مسجد کے نام سے مشہور ہے، اس نے اپنی حیات میں زبانی طور پر خواہش ظاہر کی تھی کہ اس کی جائیداد میں سے کچھ زمین مسجد مذکور کے لئے وقف ہونی چاہئے۔

جواب

جو جائیداد مسجد کے لئے وقف کر دی گئی ہے اس کی آمدنی مسجد کے علاوہ واقف کے خاندان پر صرف کرنا درست نہیں، اگر آمدنی کی رقم زائد ہے تو اس کے ذریعہ دیگر جائیداد خرید کر وقف میں اضافہ کر دیا جائے۔ پھر زائد آمدنی دیگر حاجتمند مساجد پر بھی صرف کرنے کی گنجائش ہو سکے گی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو