وقف علی اللہ میں سے کچھ حصہ حق الخدمت کیلئے مقرر کرنا
سوال
ایک شخص نے ایک ریاست سے کافی زمین سالانہ لگان پر حاصل کی اس کے بعد اس پر ایک کوٹھی تعمیر کی، بقیہ زمین کوٹھی کے چاروں طرف اُفتادہ پڑی رہی، اس کوٹھی وزمین کو گھیرنے کے لئے خام چہار دیواری بنادی۔ وقتاً فوقتا ملازمین کے لئے اس زمین پر جھوپڑے بھی بنتے رہے، اور کافی زمین افتادہ پڑی رہی، کوٹھی والی زمین اور بڑی زمین کا ریاست کو لگان دیا جاتا رہا، پھر اس شخص نے یہ کل زمین اور کوٹھی ایک عورت کو دیدی، کچھ عرصہ بعد اس عورت نے اس سب زمین وکوٹھی کو وقف علی اللہ کر دیا اور کچھ حصہ آمدنی بطور حق الخدمت اپنی اولاد نرینہ ودختری…
جواب
اب تو مالکان مکان سے بھی ٹیکس لیا جاتا ہے اگر اس کے لگان کی بھی یہی صورت ہے تو یہ وقف کرنا بھی درست ہے، اور وقف میں اگر کچھ حصہ مثلا بطور حق الخدمت اولاد نرینہ ودختری کیلئے تجویز کر دیا جائے تو اس سے وقف میں خلل نہیں آتا۔ دیگر بقیہ مصارف خیر میں جن کو واقف نے متعین کیا ہو صرف کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔