اولاد واقف کو انتظام میں دخل دینے کا حق
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنی حمیت اور قوت دینی سے ایک مدرسہ دینی اپنے مکان پر قائم کیا اور وہ ہمیشہ اس مدرسہ کی ترقی کی کوشش ونگرانی کرتا رہا، اس نے یہ بھی کیا کہ شہر کے چند متدین اور عمائد کی ایک کمیٹی بنائی جو مدرسہ کے انتظام اور اس کی ترقی کے مشورے دے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس مدرسہ کے قائم اور برقرار رکھنے کے لئے دکانی جائیداد موقوفہ کا انتظام ہو گیا لیکن پرانے ممبران جب یکے بعد دیگر مر گئے تو اس شخص نے جدید ممبران قائم کئے اور خود بھی مر گیا اس کے انتقال کے بعد چند ممبروں کی وجہ سے…
جواب
صورت مسئولہ میں چونکہ موجودہ ممبران اصلی متولی مرحوم کے مقرر کردہ ہیں اور اصلی متولی کو حق تھا کہ جس کو چاہے متولی مقرر کر دے (کما صرح بہ فی العالمگیریہ ص: ۹۹۹، ج:۲) للمتولى ان يفوض لغيره عند موته لهذا متولی مرحوم کی اولاد کو بغیر رضا مندی ممبران مدرسہ محض ترقی رک جانیکی وجہ سے نگرانی یا انتظامات میں دخل دینے کا حق نہیں تا وقتیکہ ممبران کی جانب سے کوئی خیانت ظاہر ہو البتہ اگر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔