الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وکیل بالشراء کو قیمت میں تصرف کرنا

سوال

اگر کسی شخص نے ایک آدمی کو کوئی شئی خریدنے کو کہا اور پیسے اپنے پاس سے دیئے تو وکیل کو یہ جائز ہے کہ یہ پیسہ بوجہ ضرورت اپنے تصرف میں لائے، اور مؤکل کو اپنے پیسے سے چیز کو خرید کر دیدے اور خریدنے کے بعد وکیل موکل کے لئے وہ شے لا رہا تھا، کہ راستہ میں وکیل سے ایک شخص نے کہا کہ یہ شئی مجھ کو دیدو اور تم اور بازار سے خرید کر مؤکل کو دے دو، تو وکیل کو یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

وکیل امین ہوتا ہے، امانت میں اس قسم کا تصرف نا جائز ہے، اگر تصرف کر لیا ہے تو وہ ضامن ہوگا، امین نہیں رہا، موکل کے داموں سے جو چیز خریدی ہے اسکو کسی اور کے ہاتھ فروخت کرنا درست نہیں، یہ فضولی کی بیع ہوئی، جو اصل مالک کی اجازت پر موقوف رہے گی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو