وکیل کی آمدنی اور اس کا ہدیہ
سوال
(۱) وکلائے عدالت کی وکالت کی آمدنی حلال ہے، یا حرام جب کہ وکالت کرنے میں حق و ناحق ہر طرح کے مقدمے کی وکالت کرتے ہیں؟ (۲) ایسے وکیل کی آمدنی سے ہدیہ کا قبول کرنا جائز ہے یا نا جائز۔ (۳) مسلم و غیر مسلم کی وکالت کی آمدنی سے ہدیہ کے قبول کرنے میں کچھ فرق تو نہیں؟ (۴) اگر وکیل کی آمدنی کا ذریعہ علاوہ وکالت کے اور بھی کوئی ہو مثلاً تجارت تو ایسی حالت میں ہدیہ کے قبول اور اس کے استعمال میں کیا حکم ہے، جب کہ یہ امر خفی ہے، کہ یہ ہدیہ وکالت کی آمدنی کا ہے، یا اور کسی آمدنی کا نا جائز ہونے کی صورت میں یہ امر قابل دریافت…
جواب
وکالت ایک عقد اجارہ ہے اگر اجارہ میں عمل یا وقت اور اجر کی تعیین ہو جائے نیز وہ عمل معصیت نہو اور ان طاعات میں سے بھی نہ ہو کہ جن پر اجر لینا نا جائز ہے، تو اجارہ درست ہے، اس طرح اگر وکالت میں امور مذکورہ کا لحاظ رکھا جائے، تو وکالت کی آمدنی حلال ہوگی، اور جس وکالت میں معصیت پر اجر لیا جائے، یعنی جھوٹے اور ناحق مقدمہ کی پیروی کی جائے، اور ظالم کی اعانت کی جاوے، ایسی وکالت اور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔