وکالت کی آمدنی
سوال
موجودہ وقت کے پیش نظر وکالت سے جو رقم زکوۃ کے نصاب کو پہنچ جاتی ہے، اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے یا نہیں، اور اس رقم سے حج واجب ہوتا ہے، یا نہیں؟
جواب
حوادث الفتاوی حصہ ثانیہ، ص ۱۵۳ر میں کچھ توجیہات کی ہیں، جن سے پیشہ وکالت کا جواز بعض قیود کے ساتھ مستفاد ہوتا ہے، لیکن وہ قیود عامہ ملحوظ نہیں ہوتی، اس لئے فتاوی رشیدیہ حصہ اول میں لکھا ہے کہ اس زمانہ کی وکالت اور محنتانہ حلال نہیں ان کا کھانا بھی اچھا نہیں، مگر بتاویل، پس اگر محض ناجائز وکالت کی آمدنی ہے تو اس پر نہ زکوۃ ہے نہ حج بلکہ واجب الرد ہے، ارباب اموال کو واپس کرے، وہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔