الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وکیل کو خرید میں نفع لینا

سوال

میری والدہ کی بیوہ پڑوسن نے کراچی سے روپیہ روانہ کئے، یہاں سے جڑاؤ زیور خرید کر روانہ کرنے میں مختلف جگہ سے ایک ایک چیز خرید کر اس پر اپنا نفع رکھ کر ان کو روانہ کئے ہوں، تو کیا یہ نفع لینا جائز ہے، وہ عورت تو بیوہ ہے لیکن ان کا لڑکا اچھا ملازم ہے، سسرال والے مدد بھی کرتے ہیں، میرا روپیہ، وقت خرچ ہوا، محنت کر کے محنت کا نفع لیا جاسکتا ہے، میری کوئی دوکان نہیں ہے، دوکان سے سامان خرید کر اس پر اپنا نفع رکھتی ہوں۔

جواب

آپ نے اس بیوہ کے بھیجے ہوئے رو پیہ سے اسکے لئے سامان خریدا اس پر آپ کو نفع لینا جائز نہیں، البتہ بازار جانے دوکان سے خریدنے میں جو آپ کا وقت خرچ ہوا حق المحنت کی حیثیت سے آپ ان سے مطالبہ کر سکتی ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو