الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک شخص کیا متعدد معاملات میں وکیل بن سکتا ہے

سوال

اگر کوئی شخص کسی کا ایک مرتبہ کسی مقدمہ میں وکیل بن جائے، تو پھر تمام عمر وہ کسی کا بھی مقدمہ میں وکیل نہیں بن سکتا، الا وکیل نکاح کے، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

ایک مقدمہ میں جب ایک آدمی کسی طرف سے وکیل بن چکا ہے، تو اس مقدمہ میں دوسرے فریق کی طرف سے وکیل نہیں بن سکتا ہے جب تک فریق اول کی وکالت سے علیحدہ نہ ہو جائے، اس کے علاوہ یہ بات کہ وہ کسی کا بھی وکیل نہیں بن سکتا، تمام عمر بیکار ہی رہے گا، اس سے وکالت کی صلاحیت ہی ختم ہو جائے گی، الا وکیل نکاح کے تو یہ بات غلط ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو