مسئله یزید
سوال
چند ایک مسائل ہیں جن کو اگر آپ حل کر دیں تو میرے لئے بہت بڑی سعادتمندی ہوگی، اور آج کل یہاں یہ بھی مسائل بڑے زور وشور سے دینی پرچوں کا موضوع بنے ہوئے ہیں، ترجمان القرآن، البلاغ، بینات، ترجمان اسلام، خدام الدین وغیرہ۔ ” وہ مسائل مندرجہ ذیل ہیں“ (۱) فقہی اعتبار سے یزید کافر ہے یا مؤمن فاسق؟ (۲) اگر وہ کافر نہیں اور اس کو فاسق کہا جائے تو اس پر لعنت کرنا اور سب و شتم کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ (۳) اگر وہ مومن فاسق تھا تو حضرت معاویہؓ نے اس کو کس بنیاد پر خلافت عنایت فرمائی؟ (۴)
جواب
یزید کے کفر و اسلام سے بحث کرنا نہ تو اعتقادی مسئلہ ہے، کہ بغیر اس کے ایمان ہی معتبر نہ ہو، نہ ہی عملی مسئلہ ہے کہ اعمال شرعیہ اس پر موقوف ہوں۔ اس بحث میں پڑنا اپنے وقت عزیز کو ضائع کرنا ہے، وقت خدائے پاک کی طرف سے ایک بیش بہا خزانہ ہے، اس کی قدر لازمی ہے، ناقدری سے اس کو ضائع کر دینا اور لایعنی میں صرف کر دینا انتہائی ناقدری ہے جس کا کوئی بدل نہیں، اس ” اضاعت“ کا وبال بہت سخت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔