بچے کے انتقال پر اہلیہ کا اپنے شوہر کو مطلع نہ کرنا
سوال
وہ کونسے صحابی تھے اور ان کی بیوی کا کیا نام تھا کہ جن کے لڑکے کا انتقال ہو چکا تھا اور بیوی نے فرمایا شوہر سے کہ بچہ بالکل اچھا ہے اور بیوی نے زینت بھی کی تھی، جس کی وجہ سے شوہر (صحابی) نے شب میں بیوی سے صحبت بھی کی تھی، اس وقت بیوی نے فرمایا کہ صاحبزادہ کا انتقال ہو گیا ہے، صبر کیجئے اس کی امانت تھی لے لی، اور اتنی دیر تک میت کا پڑا رہنا اور اس صورت میں صبر دلانے کی کیا وجہ تھی؟ اور یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات شریف کا ہے، یا بعد میں ایسا ہوا؟
جواب
وہ صحابی حضرت ابوطلحہ تھے، انکی بیوی حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا تھیں جو کہ حضرت انس کی والدہ تھیں، اور اس بچے کا نام ابو عمیر تھا، حضرت ابوطلحہ روزہ سے تھے، شام کے وقت جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یا کسی اور جگہ تشریف لے گئے تھے، بچے کا انتقال ہو گیا، ان کو اپنے بچہ سے محبت بہت تھی، والدہ کو اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے ابھی ظاہر کر دیا تو ان کو رنج بہت ہوگا، اس لئے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔